شاعرِ اعظم مرزا سلامت علی دبير
ذیشان زیدی
مداح ِ امیر ابن امیر آتا ہے
دربار میں شاہوں کے فقیر آتا ہے
مشتاق ِ ُسخن خلق چلی آتی ہے
لو مرثیہ پڑھنے کو دبیر آتا ہے
عزیزو آج 30 محرم مرید شاہ نجف مرزا دبیر کا یوم وفات ہے۔ میں ان کو دبير فلک کہوں گا۔ صنف مرثیہ کو بام عروج پر پہنچانے میں میر انیس کے ساتھ ساتھ ان کی کوشش بھی ہر لحاظ سے قابل ِ داد ہیں
مرزا غلام حسین کے بیٹے تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں والد کے ہمراہ لکھنو منتقل ہوگئے۔ گیارہ سال کی عمر میں دبیر کے والد انہیں میر ضمیر کے پاس لے گۓ اور کہا کہ صاحبزادے کو مداحئ اہلبیت کا شوق ہے تو میر ضمیر نے دبیر سے کہا صاحبزادے کچھ سناؤ تو مرزا صاحب نے یہ قطع پڑا جس پر ضمیر اور حاضرین مجلس پھڑک اٹھے اور کوئ کہنے لگا "واہ کیا بلا کی طبیعت پائ ہے"
کسی کا کندہ نگینے پہ نام ہوتا ہے
کسی کی عمر کا لبریز جام ہوتا ہے
عجب سرا ہے یہ دنیا کہ جس میں شام و سحر
کس کا کوچ کسی کا مقام ہوتا ہے
ان کے کلام کی بیس جلدیں لکھنؤ سے شائع ہو چکی ہیں۔ فقہہ کے بڑے عالم تھے۔ اپنے 7 مرثیوں میں جنات کا ذکر کیا۔ ایک بے نقطہ مرثیہ بھی کہا۔ ڈاکٹر تقی عابدی کی تحقیق کے مطابق مرزا دبیر نے اردو ادب میں سب سے زیادہ رباعیات کہیں جن کی تعداد 1332 ہے اور جن کو 106 مضامین پر تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ جیسے دبیر خود ایک مصرعے میں کہتے ہیں
"مضمون میرا گھر پوچھتے آتے ہے فلک سے"
مرزا سلامت علی دبیر کا ایک مشہور مرثیہ در حال شہادت حضرت عباس ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے، " اب تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے
رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے
ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے
شمشیر بکف دیکھ کہ حیدر کے پسر کو
جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوے پر کو
مزید شہرہ آفاق مرثیے
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے
آہوئے کعبہ قربانئ داور ہے حُسین
بلقیس پاسباں ہے یہ کس کی جناب ہے
جب پریشاں ہوئ مولا کی جماعت رن میں
جب حرم قلعۂ شیریں کے برابر آۓ
چہلم جو کربلا میں بہترّ کا ہوچکا
سبطین ِ علی رونق ِ میدان ِ وغا تھے
غور کریں گے تو ہمارے پیج سے سب سے زیادہ مرزا صاحب کا کلام پوسٹ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ دبیر کافی عرصہ سے ناشروں کی عدم توجہی کا شکار تھے۔ ڈکٹر تقی عابدی کا کمال ہے کہ دبیر کے مرثیوں کے علاوہ ان کی نظم و نثر کی باقی تحریروں کو بھی انھوں نے ڈھونڈ کر نکالا اور چھان پھٹک کے بعد مرتب کر کے شایع کیا۔
سینے میں نیزہ حلق پہ خنجر زبان پہ شکر
یہ حلم جز حسین بھلا کس بشر میں ہے
طوفاں اٹھا ہے آب دم ذوالفقار سے
ہستئ اہل ظلم کی کشی بھنور میں ہے
بولی دیکھ کے نرگس کو باغ میں صغری'
کہ تو بھی کیا گل زہرا کے انتظار میں ہے
شہید و بیکس و مظلوم و بے دیار و غریب
ہر ایک لفظ یہ شبیّر کے خطاب میں ہے
دبیر نے بغیر نقطوں کے ایک کلام لکھا جس کا پہلا شعر:
"ہم طالع ہما مرا وہم رسا ہوا"
اس بے نقطہ نظم میں مرزا دبیر نے اپنے تخلص دبیر کی جگہ اپنا تخلص ’’عطارد‘‘ استعمال کیا اور اس پوری نظم میں شروع سے آخر تک ایک نقطے کا استعمال بھی نہیں کیا۔ ایک انگریز مصنف، پرو فیسر اور قدیم اردو شاعری کے کے ماہر پروفیسر فرانسس ڈبلیو پرچیٹ نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ’’ اس طرح کا مکمل مرثیہ نگار، شاعر اور انسان دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا‘‘

ہمیں ایک صاحب ملے اور کہنے لگے دبیر کے کلام میں مبالغہ آرائ بہت ہے تو ہم نے جواب دیا اگر مبالغہ میں سچی بات کہدی تو پھر وہ چپ ہوگۓ۔ دو رباعیات ملاحظہ ہوں
حیدر نے قدیر ازلی کو سمجھا
اللہ بھی خُوب اپنے ولی کو سمجھا
سمجھے جو خُدا علی کو، ہے کفر دبیر
پر کہتا ہوں میں خدا علی کو سمجھا
تھا نور ِ علی شمس و قمر سے پہلے
مخلوق ہوۓ ابوالبشر سے پہلے
حیراں ہیں خلقت ِ علی میں آدم
موجود تھا فرزند پدر سے پہلے
مرزا دبیرکی شہرت و منزلت عالم ِ شباب ہی میں اتنی عام ہو چکی تھی کہ شاہ اودھ غازی الدین حیدر نے ان کو شاہی امام باڑے میں دعوت دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہر طرف خلیق، ضمیر، دلگیر اور فصیح وغیرہ کا طوطی بول رہا تھا ان کا کہنہ مشق اساتذہ کی موجودگی میں نوجوان دبیر کی شاہی مجلس پڑھنا اس کے فنی کمال کی دلیل ہے۔
جب غازی الدین حیدر نے اپنے عزاخانے میں ذاکری کے لیۓ بلوایا۔ مرزا دبیر منبر پر گۓ، حمد و نعت میں ایک ایک رباعی پڑھی اور پھر مسدس کا یہ بند پڑھا جو راستے میں لکھا تھا
واجب ہے حمد و شکر جناب ِ الہ میں !
فضل ِ خدا سے آیا ہوں کس بارگاہ میں
مجھ سا گدا، اور انجمن ِ بادشاہ میں !
چرچا یہ لوگ کرتے ہیں اس وقت راہ میں
ذرّے پہ چشم ِ مہر ہے مہر ِ منیر کو
حضرت نے آج یاد کیا ہے دبیر کو
یہ مرثیہ پڑھا جس کا مطلع ہے "داغ غم حسین میں کیا آب و تاب ہے" جب مرثیے کا یہ بند پڑھا تو بادشاہ رونے لگا
جب روز کبریا کی عدالت کا آۓ گا
جبّار بادشاہوں کو پہلے بلاۓ کا
انصاف و عدل ان سے بہت پوچھا جاۓ گا
تو آج داد دینے کی کل داد پاۓ گا
گل کر دیا ہے دونوں جہانوں کے چراغ کو
لوٹا ہے تیر ے عہد میں زہرا کے باغ کو
دبیر تو یہ مرثیہ پڑھ کر چلے گۓ مگر بادشاہ کو ساری رات خوف خدا سے نیند نہیں آئ۔ صبح ہوتے ہی اپنے وزیر کو انصاف اور عدالت کے بارے میں تاکید کی
اپنے ایک مرثیے میں حضرت علی اکبر کے حال میں چہرے کو مخصوص رنگ و آہنگ عطا کرتے ہیں
محتاجِ کفن لاش ہے کس فخر جہاں کی
ہم گورِ غریباں میں ہے دھوم آہ و فغاں کی
پوچھو تو زمانے میں ہے یہ رسم کہاں کی
تابوت پہ سہر ا نہیں میت ہے جواں کی
مرنا تو ہے برحق سبھی اک روز مریں گے
لیکن یہ شباب اور یہ اجل یاد کریں گے
ڈاکٹر سید ناظر حسین زیدی دبیر کے متعلق لکھتے ہیں،
”دبیر کے کلام کا خاص جوہر زورِ بیان، شوکتِ الفاظ، بلند تخیل، ایجاز مضامین اور صنائع کا استعمال ہے۔ تخیل کی بلند پروازی، علمی اصطلاحات، عربی فقروں کی تضمین اور ایجاز مضامین کے زور میں وہ بے مثل ہیں یہ ان کی خاص مملکت ہے۔ “
شبلی اور ان کے حواریوں نے مرزا دبیر کے محاسن پر پردہ ڈال کر ان کی عیب جوئ کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ایک بہت بڑے شاعر کی حقیقی تفہیم سے محروم رہ گۓ۔ اردو ادب میں جو دہشت گردی عام ہے اس کی تاریخ پرانی ہے۔ مرزا دبیر کی حق فراموشی اردو ادب پر بہت بڑا ظلم ہے۔ دبیر اردو ادب کا سب سے مظلوم شاعر ہے جس کے حسب پر، نسب پر، مذہب پر، شخصیت پر، فن پر استاد اور شاگردوں کی طرف سے حملے کیۓ گۓ۔
مرزا دبیر ایک مرثیہ نظم کر رہے تھے کہ میر انیس کے انتقال کی خبر ملی۔ مرثیہ ناتمام چھوڑ دیا اور کہا "دبیر یہ تیرا آخری مرثیہ ہے" اور یہی نامکمل مرثیہ اپنی آخری مجلس میں پڑھا۔ یہ مرثیہ حضرت عباس کے حال میں تھا اور اس میں مولاۓ کائنات اور جناب ِ ام البنین کے عقد کا بھی ذکر ہے
انجیل ِ مسیح ِ لب ِ شبّیر ہیں عباس
سرخئ سر ِ سورۂ تقدیر ہیں عباس
یہ مصحف ِ اخلاص کی تفسیر ہیں عباس
ہر جزو ِ ُکل آیۂ تسخیر ہیں عباس
شمشیر ِ خدا ہیں سپر ِ شاہ عرب ہیں
خالق کے سوا قبضہ میں اس تیغ کے سب ہیں
دبیر نے مرنے سے ۳۰ برس پہلے یہ دعا مانگی اور وہ مستجاب ہوئی۔ ان کا انتقال ۳۰ محرم ۱۲۹۲ کو ہی ہوا
جب ُمصحف ِ ہستی میرا برہم کرنا
سی پارۂ ایام ِ محرم کرنا
برباد نہ جائے میری خاک اے گردوں
تیار چراغ ِ بزم ِ ماتم کرنا
